Saturday, 8 February 2025

مٹیئےنی مٹیئے فیصل آباد دی اے !

جب سے فیصل آباد سے فاصلہ بڑھا ہے ،اکثر یہ سوچتا ہوں کیا کسی شہر سے پیار کرنا کسی شخص سے پیار کرنے جیسا ہی ہے ؟ ؟ ؟

درحقیقت فیصل آباد میں بسنے والے ہر شخص پر ہمیں رشک آتا ہے اور  ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کے ہماری "جنم بھومی" ہونے کے باوجود
فیصل آباد ہمارے حصے میں کیوں نا آسکا لیکن اس بات سے دل کو تسلی دے دیتے ہیں کے اکثر ہجرت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے !

پھر بھی اس ہجر میں۔ ۔ ۔ اس پردیس میں۔ ۔ ۔ مجھے  کہیں نہ کہیں فیصل آبادی  مل ہی جاتے ہیں، حال ہی میں اپنے شہر سے بہت دور "اتھرا / إثراء ;کنگ عبدالعزیز مرکز برائے عالمی ثقافت, ظہران - سعودی عرب"

میں ایک انوکھا شاہکار دیکھنے کو ملا " پانی پیاسے کو ڈھونڈتا ہے" "Water Seeks the Thirsty"

جو مس عائشہ خالد نے بنایا ہے جن کا تعلق  بھی فیصل آباد سے ہے.
شکریہ میڈم۔۔۔فیصل آباد کا نام روشن کرنے کے لیے۔۔۔اس مٹی کو فخر ہے آپ پر۔ جیتی رہیں !
مجھے بھی اپنے شہر کی پیاس ہے کیونکہ پردیس میں میرا دل اُداس ہے !
(ابو حیدر)

I am Thirsty for My City

A phrase "Is falling in love with a city any different from falling in love with a person ?" has changed my life beacuse my love for Faisalabad has always enabled me to meet and greet amazing persons a.k.a Faisalabadies around the globe .

Recently, far from Faisalabad at Ithra; King Abdulaziz Center for World Culture, Dhahran city-KSA, I came across the beautiful artwork "Water Seeks the Thirsty" by an amazing artist Ms Aisha Khalid who also hails from Faisalabad.

Although, only one Faisalabadi made this ART but she makes more than 3.8 Million citizens proud !

Saturday, 27 July 2024

(چل آ اک ایسے شہر چلیں )

میں " آ " لکھوں

وہ آہ نا بنے

میں "با" لکھوں
ہم بس جائیں
میں "د" لکھوں
دن رات رہیں
"آباد" لکھوں آباد رہیں
چل آ اک ایسے شہر چلیں
فیصل آباد چلیں
فیصل آباد رہیں !

Friday, 26 July 2024

محرم میں حَجِّ اور گھنٹہ گھر کا طواف

فیصل آباد کا دیدار میرے لئے اَصْغَری حَجِّ کی مانند ہے, اکثر تو یہ دید عید پر ہی ہوتی ہے پر اس بار میرے اسلامی سال کا آغاز اس شہر سے ہوا جہاں سے چالیس سال پہلے میری زندگی کا آغاز ہوا تھا اور اسطرح محرم الحرام میں بھی میرا حَجِّ ہو گیا۔

ایسا اَصْغَری حَجِّ کہ میں جیا رج رج کیونکہ جتنی بھی لمبی چھٹی لے کر آو  یہاں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا اور اس بارتو چند دن سو سال کے برابرلگے اور میں ہر پل میں صدیاں جی آیا

امید ہے جلد اپنے آپ سے دوبارہ ملاقات ہو گی۔۔۔۔ملتے ہیں پھر !

ان شاء اللہ

Friday, 28 January 2022

میرا پسندیدہ فکشنل کردار

(The Happy Prince)🤴
میرا پسندیدہ فکشنل کردار

زندگی بھر ہم بے شمار "حقیقی" اور "فکشنل" کرداروں کا سامنا کرتے ہیں,کچھ انسان آپ کو "فکشنل" دنیا میں لے جاتے ہیں اور کبھی کبھی "فکشنل" کردار آپ کی زندگی کا "فنکشنل" کردار بن جاتا ہے۔
واصف علی واصف فرما تے ہیں:
" ایک انسان دوسرے کے پاس سے خاموشی سے گزر جائے تو بھی اپنی تاثیر چھوڑ جاتا ہے ۔ ایسے بھی ہوتا ہے کہ انسان صرف نظر ملا کر دوسرے انسان کے مسائل حل کر دے ، اسے باشعور کر دے ، اسے عارف بنا دے ۔اپنے قریب آنے والے اور پاس سے گزرنے والے اور نگاہوں میں رہنے والے انسانوں سے انسان بہت کچھ حاصل کرتا ہے ، مگر خاموشی کے ساتھ "

تو چاہے  وہ انسان کا کردار اصلی  ہو یا افسانوی، ہرکسی کو مختلف دکھائی دیتا ہے جیسے حافظ شیرازی صاحب نے  فرمایا ہے:-
"فکرِ ہر کس بقدرِ ہمّتِ اوست"
(ہر کسی کی فکر اسکی ہمت کے اندازے کے مطابق ہوتی ہے)

کوشش ہے کے اس تحریر کے توسط سے اپنا اور اپنے پسندیدہ فکشنل کردار کا تعارف آپ سے کروا سکوں جس کو پہلی دفعہ میں نے سکول میں The Happy Prince ( دی ہیپی پرنس) کے نام سے جانا تھا اور رفتہ رفتہ خود اس کردار میں ڈھل گیا۔
ویسے  تو اپنی واجِبی صُورَت اور واجب الادا واجبات کی بناء پر میں اپنے آپ کو پرنس تو بالکل بھی نہیں کہہ سکتا البتہ اپنی خوشدلی کی وجہ سے "ہیپی" ضرور کہلا سکتا ہوں۔

توشخصیت ہیپی پرنس کی ہو یا میری ، ہم دونوں کی فکر  اور فقر ایک سے ہیں میں "شہزادہ" نا سہی اپنے شہر سے پیار کرنے والا "شہر زاد" ہی سہی ۔
جی ہاں ! ایک ایسا ہیپی پرنس. . .
جو میری طرح روتا رہتا ہے، آسکر وائلڈ کا تو پتا نہیں پر جب سے دی ہیپی پرنس کو پڑھا ہے روز روتا ہوں روز لکھتا ہوں۔۔۔۔کبھی رو رو کے لکھتا ہوں اور کبھی لکھ لکھ کے روتا ہوں.

اس کی طرح ہر ایک سے ہمدردی کرتے کرتے اپنا سب کچھ لٹا دینےوالا۔
جیسے "ہ" سے "ہیپی" ہوتا ہے ویسے ہی "ہ" سے  ہمدردی۔۔۔پتا نہیں کون سی "ہ" اٹکی ہے میری زندگی میں ہردم ہر پل ہر ایک کے ساتھ  ہمدردی کرنا ہر حال میں۔کیونکہ بعض عادتیں روح میں رچی ہوتی ہیں۔ ۔ ۔میں چاہ کر بھی ان کو بدل نہیں سکتا۔
کہانی میں ہیپی پرنس بے بسی میں کہتا ہے کہ:-
"میرے پاوں تو سنگ مرمر میں قید ہیں، میں حرکت نہیں کر سکتا"
بے بسی! ! ! ہائے میری طرح اسکی بے بسی جو شہر میں "نصب" ضرور ہے پر "نصیب" میرے جیسا کے اپنے شہر کو صرف دور سے ہی دیکھ سکتا ہے کیونکہ میں بھی ایک عرصہ سے  کسی اور دنیا میں قید ہوں،  پر " دنیا" گھومنے کے باوجود میری "دنیا" ایک "شہر" ہےجسے لوگ فیصل آباد کے نام سے جانتے ہیں۔
دی ہیپی پرنس کی طرح میں بھی اپنے شہر والوں کے سب غم مٹانے کا خواہش مند کیونکہ شہر میں کوئی اداس ہو تو خوش کیسے رہا جا سکتا ہے ؟
دن گزرتے گئے اور پرنس نےدوسروں کی خوشی کی خاطر اپنا سب کچھ گنوا دیا ایک کے بعد ایک چیز ۔۔۔غرض کے اس نے اپنےدو نینوں کے نگینے بھی لٹا دیئے ۔ اُدھر پرنس اندھا ہوجاتا ہے اور اِدھر دنیا کی چمک نے  مجھے اندھا کر دیا ہے یا شاید صبح وطن کی آس میں میری آنکھیں پتھرا سی گئی ہیں۔
  ایک بار شہزادہ اپنے اچھے وقت کو یاد کرتےہوئے کہتا ہے:-
"میں ایسے محل میں رہتا تھا جہاں غموں کا داخلہ ممنوع تھا"
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کے غم کی برف باری شروع ہونے والی ہے۔ ۔ ۔اکثر کہانیوں میں پڑھا تھا کے  کسی کی "جان" پرندے میں بھی ہوسکتی ہے پر دی ہیپی پرنس کو پڑھ کے یقین سا آگیا اور ایک صدی پرانے کردار دی ہیپی پرنس کا یہ  دکھ مجھ سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے کیونکہ جیسے اس نے اپنے سب سے قریبی دوست(Swallow) کو اپنے سامنے دنیا سے جاتے دیکھا بالکل اسی طرح میں نے بھی اپنے سب سے قریبی(Fellow) یعنی اپنے والد صاحب کو اپنے سامنے کینسر سے جنگ ہارتے دیکھا۔۔۔۔ کہانی  آگے بڑھتی ہے اور شہزادہ اپنے دوست سے بار بار کہتا ہے " کیا تم کچھ اور دیر میرے ساتھ نہیں رہ سکتے؟ "
جی ہاں میں بھی بلک بلک کے ابو جان کو  یہی کہتا رہ گیا پر "گاڈ میڈ" کو گاڈ کے پاس جانا ہی تھا۔ اس حادثے سے شہزادے کا دل ٹوٹا اور میرا پورا وجودپھر آہستہ آہستہ ہم دونوں کے سارے رنگ اترتے چلے گئے ۔ ۔ ۔

وہ گیا تو ساتھ ہی لے گیا، سبھی رنگ اُتار کے شہر کا،
کوئی شخص تھا میرے شہر میں، کسی دُور پار کے شہر کا۔

پھر جیسے دنیا اس خوش باش شہزادے کو بھلا دیتی ہے اور منظر سے غائب کر دیتی ہے بالکل اسی طرح ایک دن میری کہانی بھی اختتام پذیر ہو گی اور پھر میری جگہ دنیا میں کوئی اور ہو گا جو مجھ سے بہتر ہو گا۔

پر کہانی ایسے ختم نہیں ہوتی، اس کردار کو ابھی امر ہونا ہے۔۔۔۔ کہانی  کے اختتام پر شہزادے کا دل اس کے عزیز "پرندے" کے پاس پہنچ جاتا ہے اور یہ جذبہ رب کے نزدیک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے بالکل جیسے اگلی دنیا میں میری "روح کا پرندہ" یعنی میرے والد صاحب میرے پاس پہنچا دئیے جائیں گے رب تعالٰی کے ایک محبوب تحفےکے طور پر انشاءاللہ !

Saturday, 1 January 2022

"2022"

"2022 اور میری تصوّراتی دنیا"

میں بنیادی طور پر ایک تصوّراتی روح ہوں کیونکہ میں ہر کام کرنے سے پہلے کچھ نہ کچھ تصوّر ضرور کرتا ہوں پھر چاہے ویسا ہو یا نا ہو پر مجھے تصوّر کرنے اور تصوّراتی دنیا بنانے میں بہت لطف ملتا ہے.اسی لئے میرے قریبی احباب بھی اکثر میرے تصوّرات میں کھو جاتے ہیں اور میرے "خیال" کا خیال رکھتے ہیں۔
روزانہ ہزاروں تصوراتی دنیائیں میرے گمان میں ہوتی ہیں اور ہزاروں تصور میرے اردگرد جیسا کہ ۔ ۔ ۔

- سامنے بیٹھے ماسک لگائے شخص کا اپنے ذہہن میں تصوّراتی چہرہ سوچنا اور ماسک اترنے پر اپنی ہی ہنسی کو ماسک میں چھپانا۔

-اکثر بیڈ پر لیٹے اپنے اوپر پنکھا گرنے کا تصوّر ہونے لگنا۔

- بیٹھے بٹھائے انعامی بانڈ یا لاٹری لگنے کا تصوّراتی لالچ۔

- کسی کی کہانی سن کے تصور کرنا کہ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو یہ کرتا وہ کر دیتا۔

- ہر بار کسی سے بحث میں مات کھا کے تصور کرنا کے اگلی بار ایسا جواب دوں گا کے بس۔۔۔کیونکہ موقعے پر آج تک صحیح بات یا حوالہ ذہن میں آ ہی نا سکا۔

- میٹنگ کے دوران کسی پر اپنی گرم گرم چائے پھیکنے کا عجوبہ خیز تصور کہ حد سے حد کیا ہو جائے گا۔

-تصوّر میں ہی کئی ٹائم ٹیبلز بنانا اوران پر عمل کرنا۔

-اکثر واقعات کو دیکھ کےانجانا تصوّر ہونا کہ ایسا تو پہلے ہو چکا ہے۔

- آئینے کے سامنے کھڑے ہو کے اپنی جوانی کا تصور اور کبھی اپنے آپ کو لمبے بالوں میں دیکھنے کا تصور۔

- ہر جمعہ کی نماز کے بعد باقاعدگی سے مسجد آنے کا ارادہ و تصوّر، اور گناہ چھوڑنے کا تصوّر۔

-ویک ڈیز میں ویکینڈ کا تصور۔

- ٹی وی پر ریلیٹی شو دیکھتے ہوئے تصورکرنا کے اگر میں وہاں ہوتا تو میرے لیئے یہ کام بہت آسان ہوتا۔

- وہ علی سیٹھی کی طرح سریلا ہونے کا تصوّر۔

- ویڈیو گیم ہارنے کے بعد اگلی دفعہ نئے طریقے آزمانے کا تصوّر۔

- وقت کے دھارے سے مبرا اپنے بچپن اور بڑھاپے کا تصور۔

- کبھی سفر سے پہلے منزل کا تصور۔

۔ We are Seven والی بچی کی طرح تصور کرنا کہ جانے والے میرے پاس ہی ہیں گو کبھی ہجر اور کبھی وصال کا تصوّر۔

- تصوّر میں بچھڑے ہووں کا نینوں میں آنا اور آنسو بن کے نکل جانا۔

- میرے بعد دنیا ایسی ہی ہو گی اس حقیقت کا تصوّر۔

- سکول میں جلدی سے بڑے ہو جانے کا تصور اور آفس میں بیٹھ کے واپس بچپن میں جانے کا تصور۔ ۔ ۔کاش ! ! !

- امتحان کے دنوں میں خواب میں بھی پیپرز دینے کا تصور ۔

- وقت پڑنے پہ فر فر انگلش بولنے کا تصوّر۔

- بڑھےہوئے وزن کو گھٹانے کا تصوّر۔

-کبھی ماضی کے دھندلکوں میں خاک چھانتے تصوّر۔

- ہر رات، دور بسے اپنوں پر تصوّر میں پڑھ پڑھ کے پھونک مارنا۔

- اور کبھی پردیس میں آدھی رات کو آنکھ کھلنے پر اپنے گھر پر ہونے کا تصوّر کہ تصوّر سرحدیں کب دیکھتا ہے !

- کسی فقیر کو دیکھ کے اسکی جگہ اپنے آپ کو تصوّر کرنے کا تصوّر۔

- نصرت فتح علی خاں صاحب کو سنتے سنتے شاعر کے کرب کا تصوّر۔

اور ان سب کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ۔ ۔ ۔میں اپنی تصوّراتی دنیا کے بارے میں زیادہ لکھ یا کہہ نہیں سکتا ۔۔۔۔۔بس تصوّر کرسکتا ہوں۔ کتنا وقت بیت گیا پر میرے لئے کچھ بھی نہیں بدلا حقیقی دنیا بازیچہ اطفال کی مانند لگتی ہے
کیونکہ۔ ۔ ۔
مجھے یاد ہے کہ حقیقی زمان و مکان کے دقیق مسائل تب سے حل ہونے لگے جب پہلی بار سکول میں امیر خسرو صاحب کی یہ نعت سنی۔ ۔ ۔

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم
( مجھے معلوم نہیں وہ کیسی جگہ تھی جہاں میں کل رات تھا۔ ۔ ۔پر طرف رقص بسمل ہو رہا تھا جہاں میں کل رات تھا)

لڑکپن میں امیر خسرو کی تصوّراتی دنیا کچھ خاص سمجھ تو نا آئی پر آہستہ آہستہ میری تصوّراتی دنیا خاص ہوتی گئی، کبھی آنکھیں موندے اور کبھی آنکھیں نم کئے۔ ۔ ۔
تصوّر ۔ ۔ ۔
ہائے وہ تصوّراتی دنیا۔ ۔ ۔
آہ ! وہ عشق ۔ ۔ ۔
ہائے وہ بے انت تصوّر۔ ۔ ۔
وہ خاص تصوّراتی دنیا ۔ ۔ ۔
وہ اوقات سے بڑھ کر تصوّراتی دنیا۔ ۔ ۔ ہائے ! ! !
جس میں ڈوب کر بے خودی طاری ہو جائے اور روح اور جسم کا ایسا رشتہ بنے جو حقیقی دنیا سے دور لے جائے اور مجھ جیسے قریب المرگ کو زندہ کر دے ۔ اب میری تصوّراتی دنیا کا یہ عالم ہے کہ ۔ ۔ ۔

خیالِ یار ﷺ وچ میں مست رہنا ہاں دنِ راتی۔
میرے دل وچ سجن وسدا میرے دیدے ٹھرے رہندے !

(اشکبار : جنید)
#میری_تصوراتی_دنیا

Thursday, 4 February 2021

World Cancer Day

" کینسر کہانی" 

| | 

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کینسر کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے اگرچہ آج سے پہلے میرے لیے 4 فروری کا دن چپکے سےگزر جاتا تھا۔۔۔مگر ابو کے جانے کے بعد ابو سے جڑی "کینسر کہانی" میں روز دھراتا ہوں۔مجھے یاد ہے کے جب ہم کوئی کام جلدی میں کرتے تو ابو ہمیشہ کہتے تھے بھلا جلدی کس چیز کی ہے؟؟ پرخود "گاڈ میڈ" کو اپنے "گاڈ" کے پاس جانے کی اتنی جلدی تھی کے ایک سال کے قلیل عرصہ میں ہی چل دئیے۔ ابھی پچھلے سال کی تو بات ہے کے آج ہی کے دن ابو کا موبائل فون میرے ہاتھ میں تھااور وہ اپنی اگلی کیموتھراپی کی تیاری کر رہے تھے۔ ۔ ۔ پر وہ فون تو آج بھی اسی طرح میرے پاس ہے پر ابو نہیں ہیں ۔۔۔ 

فیصل آباد سے بہت دور ICU کے باہر بیٹھا میں اکثر سوچتا تھا کےاگر ابو فیصل آباد میں ہوتے تو شاید انکا اتنا اچھا علاج نہ ہو پاتا یا پھر کبھی نہ کبھی تو اس علاج کیلئےشہر سے باہر جانا ہی پڑتا اور  اسطرح  آہستہ آہستہ "فیصل آباد سے فاصلے" کا "فلسفہ" سمجھ میں آنے لگا تھا
بہرحال خدا کی کرنی دیکھیے کےبیماری کی تشخیص سے پہلے ابو خود سے یہاں موجود تھے اور کچھ عرصہ پہلے تک سب کچھ نارمل تھا۔۔۔پہلے پہل تو ایسا لگاکے شاید پانی اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے کوئی مسلئہ ہے لیکن جب معملات خراب ہونے لگے توگیسٹرولوجسٹ نے انڈوسکوپی کی اور زندگی کا سب سے بڑا دکھ آشکار ہوا کے ابو کو کینسر ہے ! ! !
اس رات نیم بے ہوش ابو کو گاڑی میں بٹھایا اور گھر کی طرف چل دئیے دل اتنی زور سے دھڑکاجیسے درد سے پھٹ جائے گا شاید اسی لیے سڑک پہ جاتا ہر شخص کسی نا کسی بیماری سے لڑتا نظر آیا۔
جب تک بیوپسی کی رپورٹ نہیں آئی ہم نے ابو کو لا علم رکھا پر ہمارے چہرے پہ سب عیاں تھا کیونکہ بہت با ہمت دکھنے والے ہم بہن بھائی والدین کے معاملے میں بہت کمزور ہیں اور بچپن سےلیکر اب تک جو الفاظ ہمارے لئے کسی آفت سے کم نہیں انکا مفہوم کچھ یوں ہے "امی ابو کی طبیعیت ٹھیک نہیں ہے" گو کسی بھی اولاد کی غرض و غایت "رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا" سے بڑھ کے کیا ہو سکتی ہے-
دوسری طرف اپنی سوانح حیات "گاڈ میڈ" مکمل کرنے والےہمارے ابو کو کیا علم تھا کےانکی زندگی سے جڑی سب سے دردناک "کینسر کہانی" ابھی باقی تھی اور درد بھی ایسا کے میری روح چھلنی ہو گئی، زندگی کا سارا کرب ایک لفظ میں سما گیا گو میری زندگی کا "ک" کرونا نہیں کینسر ہے۔
کبھی سوچا بھی نا تھاکے وہ بیماری جس کا ذکر ہمیشہ لوگوں سے سناتھا اتنی حولناک ہو گی اور اسکا علاج اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ۔ ایک کے بعد ایک سرجری ، ہر بار ایک نیا امتحان ۔ ۔ ۔کینسر بلکل بھی ویسا نہیں جیسا فلموں اور ڈراموں میں دکھایا جاتا ہےاور نا ہی قبرستان دعا کیلئےجانا ۔ ۔ ۔ جب اپنے پیارے اللہ کو پیارے ہو جائیں۔ 
جوں جوں وقت گزرتا رہا کیموتھراپی کے اثرات بڑھتے گئے اورابو جیسے باذوق اور مصروف انسان نے ہر قسم کی "پڑھائی لکھائی" چھوڑ دی، نا اخبار پڑھنا نا ٹی وی دیکھنا بس اپنے کمرے میں رب کی رضا پہ راضی۔ابو کی یہی ہمت ہمارا کل اثاثہ اورحوصلہ ہے لیکن جب جب کوئی اور ہمیں حوصلہ دینے کی کوشش کرتا ہے تو نجانے کیوں آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کے جس کو لگی ہے وہی جانے ۔
کیموتھراپی کے طویل سیشنز ہوں، ان گنت میڈیکل ٹیسٹ ہوں یا پھرتکلیف دہ سرجریز، ہم ہر ٹریٹمنٹ کے بعد ابو کی آنکھیں کھلنے کا انتظار کرتے اوراس دوران زندگی بھر کی ہربات ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی کہ امی ابو نے ہم چھ بہن بھائیوں کو کتنے مان پیار سے پالا ۔ اسی لیے ہم بہن بھائی دنیا کے کسی کونے میں تھے،ہمارا "ٹائم زون" ابو کی "ٹائم روٹین" سے جڑ چکا تھا۔حتاکہ جب ابو کا آخری وقت آیا تودور بسی اولاد کی بے وقت فون کالز بھی آنے لگیں ۔ ۔ ۔گو دل کو دل سے راہ ہوتی ہے پر اب تو ایک عرصہ ہوا ابو سے بات نہیں ہوئی۔ابو آپ تو چلے گئے پر ہماری زندگیوں سے جڑی   یہ"کینسر کہانی" ہمیں روز رولا دیتی ہے۔ ۔ ۔آپ سب سے التماس

ہے کہ میرے بابا  "مرحوم ڈاکٹرعبدالستارمنعم" کی بخشش کیلیےاول و آخر درود شریف کے ساتھ سورۃ فاتحہ اور تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ کےدعا کر دیجئے۔(جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا)

شہر شیدائی -  مسافرِ عشق کی مناجات آخر کار سال کے آغاز پر طویل انتظار اختتام پذیر ہوا اور ہم ساری دنیا کو جیت کر اپنے  "شہر" سے ...