مٹیئےنی مٹیئے فیصل آباد دی اے !
جب سے فیصل آباد سے فاصلہ بڑھا ہے ،اکثر یہ سوچتا ہوں کیا کسی شہر سے پیار کرنا کسی شخص سے پیار کرنے جیسا ہی ہے ؟ ؟ ؟
درحقیقت فیصل آباد میں بسنے والے ہر شخص پر ہمیں رشک آتا ہے اور ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کے ہماری "جنم بھومی" ہونے کے باوجود
فیصل آباد ہمارے حصے میں کیوں نا آسکا لیکن اس بات سے دل کو تسلی دے دیتے ہیں کے اکثر ہجرت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے !
پھر بھی اس ہجر میں۔ ۔ ۔ اس پردیس میں۔ ۔ ۔ مجھے کہیں نہ کہیں فیصل آبادی مل ہی جاتے ہیں، حال ہی میں اپنے شہر سے بہت دور "اتھرا / إثراء ;کنگ عبدالعزیز مرکز برائے عالمی ثقافت, ظہران - سعودی عرب"
میں ایک انوکھا شاہکار دیکھنے کو ملا " پانی پیاسے کو ڈھونڈتا ہے" "Water Seeks the Thirsty"
جو مس عائشہ خالد نے بنایا ہے جن کا تعلق بھی فیصل آباد سے ہے.
شکریہ میڈم۔۔۔فیصل آباد کا نام روشن کرنے کے لیے۔۔۔اس مٹی کو فخر ہے آپ پر۔ جیتی رہیں !
مجھے بھی اپنے شہر کی پیاس ہے کیونکہ پردیس میں میرا دل اُداس ہے !
(ابو حیدر)

No comments:
Post a Comment