Wednesday, 5 November 2025

شہر شیدائی

-  مسافرِ عشق کی مناجات

آخر کار سال کے آغاز پر طویل انتظار اختتام پذیر ہوا اور ہم ساری دنیا کو جیت کر اپنے  "شہر" سے ہارنے آئے کیونکہ میرے عشق  کا پہلا حرف "ع" نہیں "ش" ہے ۔ ۔ ۔  "ش" سے "شہر" ایسا  "ش" جو شروع سے ہی میری زندگی میں شامل ہے۔ جیسے "س"  کبھی" ش" نہیں بن سکتا اسی طرح میرے لئے کوئی اور شہر فیصل آباد جیسا  نہیں بن سکتا کیونکہ دنیا ، دنیا شہر بہ شہر گھومنے کے باوجود ایسا لگتا ہے کے میری "دنیا" اس "شہر" میں ہے۔
عشق آسان نہیں پر "ش" والا عشق تو ہوتا ہی شدید ہے جیسے من تو شُدم۔
پر  آج کے سوشل ڈسٹنسنگ کرتے لوگ "شہر ڈسٹنس" کو کیسے ماپ سکتے ہیں وہ کیسے جان سکتے ہیں کے ان پہاڑوں کے پار شمال میں ایک شہر ہے جہاں سے میری زندگی کی شروعات ہوئی تھی ، پر شومئی قسمت تو دیکھئے عُموم بیٹیاں پرائے شہر جاتی ہیں پر یہاں رخصتی ہم بیٹوں کی ہوئی جو روزی کی شطرنج  میں شہر بدر ہوئے ۔ ویسے تو ہم "شش" بہن بھائی ہی اس شہر کے شیدائی ہیں پر میں شاید "شُدھ" ہوں ایک ایسے درد کا شکار جسے "شہر سینڈروم " کہا جا سکتا ہے۔۔۔آخر اس درد کی دوا کیا ہے ؟
دلِ ناداں کو "شہر شفاء" جانا ہے کیونکہ سفنے وچ مینو شہر جے دسے ۔ ۔ تے میں رو رو اکھ سوجا لاں !  
ویسے یہ رونا۔۔اشک بہانا کوئی شکوہ یا شکایت  نہیں بلکہ "شکر" ہے کے میری زندگی شمسی توانائی سے نہیں بلکہ شہری توانائی سے چل رہی ہے گو کچھ شمسی ساعتوں سے شہر تو  نہیں جا سکا  تھا پر اپنی امی کا ماں جایا شہر شب و روز دل میں رہا۔
دولت شہرت شرط نہیں پر میرے بینک بیلنس میں بس  اس شہر  کی پہچان ہی ہے اسی لئے وقت بدلتا گیا پر "ش" کی شہ سرخی کم نا ہو سکی۔۔۔۔شریر سا میں شرمیلا بنا، پھر شیر جوان ہوا پھر "شہرزاد" سے "شادی شدہ" جس نے اپنی شاندار شریک حیات کو  بھی شامل شہر کیا اوراس شہر کی یادوں کو شئیر کیا پھر اپنی ننھی شہزادی کو توتلی زبان میں فیصل آباد کہنا سکھلایا اور اب شاید دنیا کا پہلا شہری بنا جو "ش" کے علاوہ ہر شہر مں اکتایا رہتا ہے اس لئے لا علاج "شہر سینڈروم" کا شکار ہے۔ اک "ش" نے اک شخص کو کیا سے کیا بنا دیا۔
شاید آپ کواس بات پہ شک ہوگا یا  کوئی شائبہ پر شہادت لے لیں یہ شئبدہ گری نہیں۔ بس ایک بار ملنا شرط ہے اس بیمار سے کیونکہ شنیدہ کیَ بود مانند دیدہ !
آہ ۔ ۔ ۔ اس "ش' نے مجھے
رانجھے کا رنج۔ ۔ ۔
ماہیوال کا وبال۔ ۔ ۔
پنوں مانند کھونا۔ ۔ ۔
رومیو کا رونا۔ ۔ ۔
مجنوں سا جنون۔ ۔ ۔
شاہ جہاں کا جہان۔ ۔  ۔
مرزا کا مرنا۔ ۔ ۔
اور
ہیپی پرنس کی اداسی سے لے کر
بلھے شاہ کی آہ۔ ۔ ۔  تک ہر شے سے شناسا کروا دیا ہے۔

ویسے تو شریعت کسی اور شہریت سے نہیں روکتی پر دل چاہتا ہے کے جب جب اس شہر کی "شہر شماری" ہو اس میں میرا "شوق دید" بھی شامل ہوں۔ 
شب برات ہو شب وصال ہو شب تنہائی ہو  یا شاخِ گُل۔ ۔ ۔سب کچھ اپنے شہر میں ہی اچھا لگتا ہے کیونکہ اس شہر کی دھوپ پردیس کی چھاوں سے ٹھنڈی ہے۔ اس شہر کی چپ۔۔۔۔دنیا کے شور پہ بھاری ہے کیونکہ یہاں لوگوں میں ہوں پر ۔ ۔ ۔ تنہا ہوں لیکن اس شہر خیال و خواب میں آتے ہی
ہوا میں ابو کی شاباش سنائی دیتی ہے۔ ۔ ۔
آنگن میں شباب کی دوستیاں دکھائی دیتی ہے۔ ۔ ۔
سکول کی شوخی۔۔۔کالج کی شعلہ بیانی۔ ۔ ۔
شیشے میں "اصلی" شکل ۔ ۔ ۔
شہر کے یار۔ ۔ ۔اور ان کے ساتھ گزاری شاموں کی شان۔ ۔ ۔
وہ کاغذ کی کشتی ۔ ۔ ۔
وہ بارش کا پانی۔ ۔ ۔ غرض ہر شاعری میں شہر ہی سنائی دیتا ہے۔

سچ  کہتے ہیں کے وطن جیا پردیس نی ہوندا تبھی "شہد" جسے شہر "فیصل آباد سے فاصلے" کا "فلسفہ" میری "شَناخْتی عَلامَت" بن گیا ہے کیونکہ میں "شہر شیدائی" ہوں

(ابو حیدر)

Saturday, 8 February 2025

مٹیئےنی مٹیئے فیصل آباد دی اے !

جب سے فیصل آباد سے فاصلہ بڑھا ہے ،اکثر یہ سوچتا ہوں کیا کسی شہر سے پیار کرنا کسی شخص سے پیار کرنے جیسا ہی ہے ؟ ؟ ؟

درحقیقت فیصل آباد میں بسنے والے ہر شخص پر ہمیں رشک آتا ہے اور  ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کے ہماری "جنم بھومی" ہونے کے باوجود
فیصل آباد ہمارے حصے میں کیوں نا آسکا لیکن اس بات سے دل کو تسلی دے دیتے ہیں کے اکثر ہجرت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے !

پھر بھی اس ہجر میں۔ ۔ ۔ اس پردیس میں۔ ۔ ۔ مجھے  کہیں نہ کہیں فیصل آبادی  مل ہی جاتے ہیں، حال ہی میں اپنے شہر سے بہت دور "اتھرا / إثراء ;کنگ عبدالعزیز مرکز برائے عالمی ثقافت, ظہران - سعودی عرب"

میں ایک انوکھا شاہکار دیکھنے کو ملا " پانی پیاسے کو ڈھونڈتا ہے" "Water Seeks the Thirsty"

جو مس عائشہ خالد نے بنایا ہے جن کا تعلق  بھی فیصل آباد سے ہے.
شکریہ میڈم۔۔۔فیصل آباد کا نام روشن کرنے کے لیے۔۔۔اس مٹی کو فخر ہے آپ پر۔ جیتی رہیں !
مجھے بھی اپنے شہر کی پیاس ہے کیونکہ پردیس میں میرا دل اُداس ہے !
(ابو حیدر)

I am Thirsty for My City

A phrase "Is falling in love with a city any different from falling in love with a person ?" has changed my life beacuse my love for Faisalabad has always enabled me to meet and greet amazing persons a.k.a Faisalabadies around the globe .

Recently, far from Faisalabad at Ithra; King Abdulaziz Center for World Culture, Dhahran city-KSA, I came across the beautiful artwork "Water Seeks the Thirsty" by an amazing artist Ms Aisha Khalid who also hails from Faisalabad.

Although, only one Faisalabadi made this ART but she makes more than 3.8 Million citizens proud !

Saturday, 27 July 2024

(چل آ اک ایسے شہر چلیں )

میں " آ " لکھوں

وہ آہ نا بنے

میں "با" لکھوں
ہم بس جائیں
میں "د" لکھوں
دن رات رہیں
"آباد" لکھوں آباد رہیں
چل آ اک ایسے شہر چلیں
فیصل آباد چلیں
فیصل آباد رہیں !

Friday, 26 July 2024

محرم میں حَجِّ اور گھنٹہ گھر کا طواف

فیصل آباد کا دیدار میرے لئے اَصْغَری حَجِّ کی مانند ہے, اکثر تو یہ دید عید پر ہی ہوتی ہے پر اس بار میرے اسلامی سال کا آغاز اس شہر سے ہوا جہاں سے چالیس سال پہلے میری زندگی کا آغاز ہوا تھا اور اسطرح محرم الحرام میں بھی میرا حَجِّ ہو گیا۔

ایسا اَصْغَری حَجِّ کہ میں جیا رج رج کیونکہ جتنی بھی لمبی چھٹی لے کر آو  یہاں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا اور اس بارتو چند دن سو سال کے برابرلگے اور میں ہر پل میں صدیاں جی آیا

امید ہے جلد اپنے آپ سے دوبارہ ملاقات ہو گی۔۔۔۔ملتے ہیں پھر !

ان شاء اللہ

Friday, 28 January 2022

میرا پسندیدہ فکشنل کردار

(The Happy Prince)🤴
میرا پسندیدہ فکشنل کردار

زندگی بھر ہم بے شمار "حقیقی" اور "فکشنل" کرداروں کا سامنا کرتے ہیں,کچھ انسان آپ کو "فکشنل" دنیا میں لے جاتے ہیں اور کبھی کبھی "فکشنل" کردار آپ کی زندگی کا "فنکشنل" کردار بن جاتا ہے۔
واصف علی واصف فرما تے ہیں:
" ایک انسان دوسرے کے پاس سے خاموشی سے گزر جائے تو بھی اپنی تاثیر چھوڑ جاتا ہے ۔ ایسے بھی ہوتا ہے کہ انسان صرف نظر ملا کر دوسرے انسان کے مسائل حل کر دے ، اسے باشعور کر دے ، اسے عارف بنا دے ۔اپنے قریب آنے والے اور پاس سے گزرنے والے اور نگاہوں میں رہنے والے انسانوں سے انسان بہت کچھ حاصل کرتا ہے ، مگر خاموشی کے ساتھ "

تو چاہے  وہ انسان کا کردار اصلی  ہو یا افسانوی، ہرکسی کو مختلف دکھائی دیتا ہے جیسے حافظ شیرازی صاحب نے  فرمایا ہے:-
"فکرِ ہر کس بقدرِ ہمّتِ اوست"
(ہر کسی کی فکر اسکی ہمت کے اندازے کے مطابق ہوتی ہے)

کوشش ہے کے اس تحریر کے توسط سے اپنا اور اپنے پسندیدہ فکشنل کردار کا تعارف آپ سے کروا سکوں جس کو پہلی دفعہ میں نے سکول میں The Happy Prince ( دی ہیپی پرنس) کے نام سے جانا تھا اور رفتہ رفتہ خود اس کردار میں ڈھل گیا۔
ویسے  تو اپنی واجِبی صُورَت اور واجب الادا واجبات کی بناء پر میں اپنے آپ کو پرنس تو بالکل بھی نہیں کہہ سکتا البتہ اپنی خوشدلی کی وجہ سے "ہیپی" ضرور کہلا سکتا ہوں۔

توشخصیت ہیپی پرنس کی ہو یا میری ، ہم دونوں کی فکر  اور فقر ایک سے ہیں میں "شہزادہ" نا سہی اپنے شہر سے پیار کرنے والا "شہر زاد" ہی سہی ۔
جی ہاں ! ایک ایسا ہیپی پرنس. . .
جو میری طرح روتا رہتا ہے، آسکر وائلڈ کا تو پتا نہیں پر جب سے دی ہیپی پرنس کو پڑھا ہے روز روتا ہوں روز لکھتا ہوں۔۔۔۔کبھی رو رو کے لکھتا ہوں اور کبھی لکھ لکھ کے روتا ہوں.

اس کی طرح ہر ایک سے ہمدردی کرتے کرتے اپنا سب کچھ لٹا دینےوالا۔
جیسے "ہ" سے "ہیپی" ہوتا ہے ویسے ہی "ہ" سے  ہمدردی۔۔۔پتا نہیں کون سی "ہ" اٹکی ہے میری زندگی میں ہردم ہر پل ہر ایک کے ساتھ  ہمدردی کرنا ہر حال میں۔کیونکہ بعض عادتیں روح میں رچی ہوتی ہیں۔ ۔ ۔میں چاہ کر بھی ان کو بدل نہیں سکتا۔
کہانی میں ہیپی پرنس بے بسی میں کہتا ہے کہ:-
"میرے پاوں تو سنگ مرمر میں قید ہیں، میں حرکت نہیں کر سکتا"
بے بسی! ! ! ہائے میری طرح اسکی بے بسی جو شہر میں "نصب" ضرور ہے پر "نصیب" میرے جیسا کے اپنے شہر کو صرف دور سے ہی دیکھ سکتا ہے کیونکہ میں بھی ایک عرصہ سے  کسی اور دنیا میں قید ہوں،  پر " دنیا" گھومنے کے باوجود میری "دنیا" ایک "شہر" ہےجسے لوگ فیصل آباد کے نام سے جانتے ہیں۔
دی ہیپی پرنس کی طرح میں بھی اپنے شہر والوں کے سب غم مٹانے کا خواہش مند کیونکہ شہر میں کوئی اداس ہو تو خوش کیسے رہا جا سکتا ہے ؟
دن گزرتے گئے اور پرنس نےدوسروں کی خوشی کی خاطر اپنا سب کچھ گنوا دیا ایک کے بعد ایک چیز ۔۔۔غرض کے اس نے اپنےدو نینوں کے نگینے بھی لٹا دیئے ۔ اُدھر پرنس اندھا ہوجاتا ہے اور اِدھر دنیا کی چمک نے  مجھے اندھا کر دیا ہے یا شاید صبح وطن کی آس میں میری آنکھیں پتھرا سی گئی ہیں۔
  ایک بار شہزادہ اپنے اچھے وقت کو یاد کرتےہوئے کہتا ہے:-
"میں ایسے محل میں رہتا تھا جہاں غموں کا داخلہ ممنوع تھا"
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کے غم کی برف باری شروع ہونے والی ہے۔ ۔ ۔اکثر کہانیوں میں پڑھا تھا کے  کسی کی "جان" پرندے میں بھی ہوسکتی ہے پر دی ہیپی پرنس کو پڑھ کے یقین سا آگیا اور ایک صدی پرانے کردار دی ہیپی پرنس کا یہ  دکھ مجھ سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے کیونکہ جیسے اس نے اپنے سب سے قریبی دوست(Swallow) کو اپنے سامنے دنیا سے جاتے دیکھا بالکل اسی طرح میں نے بھی اپنے سب سے قریبی(Fellow) یعنی اپنے والد صاحب کو اپنے سامنے کینسر سے جنگ ہارتے دیکھا۔۔۔۔ کہانی  آگے بڑھتی ہے اور شہزادہ اپنے دوست سے بار بار کہتا ہے " کیا تم کچھ اور دیر میرے ساتھ نہیں رہ سکتے؟ "
جی ہاں میں بھی بلک بلک کے ابو جان کو  یہی کہتا رہ گیا پر "گاڈ میڈ" کو گاڈ کے پاس جانا ہی تھا۔ اس حادثے سے شہزادے کا دل ٹوٹا اور میرا پورا وجودپھر آہستہ آہستہ ہم دونوں کے سارے رنگ اترتے چلے گئے ۔ ۔ ۔

وہ گیا تو ساتھ ہی لے گیا، سبھی رنگ اُتار کے شہر کا،
کوئی شخص تھا میرے شہر میں، کسی دُور پار کے شہر کا۔

پھر جیسے دنیا اس خوش باش شہزادے کو بھلا دیتی ہے اور منظر سے غائب کر دیتی ہے بالکل اسی طرح ایک دن میری کہانی بھی اختتام پذیر ہو گی اور پھر میری جگہ دنیا میں کوئی اور ہو گا جو مجھ سے بہتر ہو گا۔

پر کہانی ایسے ختم نہیں ہوتی، اس کردار کو ابھی امر ہونا ہے۔۔۔۔ کہانی  کے اختتام پر شہزادے کا دل اس کے عزیز "پرندے" کے پاس پہنچ جاتا ہے اور یہ جذبہ رب کے نزدیک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے بالکل جیسے اگلی دنیا میں میری "روح کا پرندہ" یعنی میرے والد صاحب میرے پاس پہنچا دئیے جائیں گے رب تعالٰی کے ایک محبوب تحفےکے طور پر انشاءاللہ !

Saturday, 1 January 2022

"2022"

"2022 اور میری تصوّراتی دنیا"

میں بنیادی طور پر ایک تصوّراتی روح ہوں کیونکہ میں ہر کام کرنے سے پہلے کچھ نہ کچھ تصوّر ضرور کرتا ہوں پھر چاہے ویسا ہو یا نا ہو پر مجھے تصوّر کرنے اور تصوّراتی دنیا بنانے میں بہت لطف ملتا ہے.اسی لئے میرے قریبی احباب بھی اکثر میرے تصوّرات میں کھو جاتے ہیں اور میرے "خیال" کا خیال رکھتے ہیں۔
روزانہ ہزاروں تصوراتی دنیائیں میرے گمان میں ہوتی ہیں اور ہزاروں تصور میرے اردگرد جیسا کہ ۔ ۔ ۔

- سامنے بیٹھے ماسک لگائے شخص کا اپنے ذہہن میں تصوّراتی چہرہ سوچنا اور ماسک اترنے پر اپنی ہی ہنسی کو ماسک میں چھپانا۔

-اکثر بیڈ پر لیٹے اپنے اوپر پنکھا گرنے کا تصوّر ہونے لگنا۔

- بیٹھے بٹھائے انعامی بانڈ یا لاٹری لگنے کا تصوّراتی لالچ۔

- کسی کی کہانی سن کے تصور کرنا کہ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو یہ کرتا وہ کر دیتا۔

- ہر بار کسی سے بحث میں مات کھا کے تصور کرنا کے اگلی بار ایسا جواب دوں گا کے بس۔۔۔کیونکہ موقعے پر آج تک صحیح بات یا حوالہ ذہن میں آ ہی نا سکا۔

- میٹنگ کے دوران کسی پر اپنی گرم گرم چائے پھیکنے کا عجوبہ خیز تصور کہ حد سے حد کیا ہو جائے گا۔

-تصوّر میں ہی کئی ٹائم ٹیبلز بنانا اوران پر عمل کرنا۔

-اکثر واقعات کو دیکھ کےانجانا تصوّر ہونا کہ ایسا تو پہلے ہو چکا ہے۔

- آئینے کے سامنے کھڑے ہو کے اپنی جوانی کا تصور اور کبھی اپنے آپ کو لمبے بالوں میں دیکھنے کا تصور۔

- ہر جمعہ کی نماز کے بعد باقاعدگی سے مسجد آنے کا ارادہ و تصوّر، اور گناہ چھوڑنے کا تصوّر۔

-ویک ڈیز میں ویکینڈ کا تصور۔

- ٹی وی پر ریلیٹی شو دیکھتے ہوئے تصورکرنا کے اگر میں وہاں ہوتا تو میرے لیئے یہ کام بہت آسان ہوتا۔

- وہ علی سیٹھی کی طرح سریلا ہونے کا تصوّر۔

- ویڈیو گیم ہارنے کے بعد اگلی دفعہ نئے طریقے آزمانے کا تصوّر۔

- وقت کے دھارے سے مبرا اپنے بچپن اور بڑھاپے کا تصور۔

- کبھی سفر سے پہلے منزل کا تصور۔

۔ We are Seven والی بچی کی طرح تصور کرنا کہ جانے والے میرے پاس ہی ہیں گو کبھی ہجر اور کبھی وصال کا تصوّر۔

- تصوّر میں بچھڑے ہووں کا نینوں میں آنا اور آنسو بن کے نکل جانا۔

- میرے بعد دنیا ایسی ہی ہو گی اس حقیقت کا تصوّر۔

- سکول میں جلدی سے بڑے ہو جانے کا تصور اور آفس میں بیٹھ کے واپس بچپن میں جانے کا تصور۔ ۔ ۔کاش ! ! !

- امتحان کے دنوں میں خواب میں بھی پیپرز دینے کا تصور ۔

- وقت پڑنے پہ فر فر انگلش بولنے کا تصوّر۔

- بڑھےہوئے وزن کو گھٹانے کا تصوّر۔

-کبھی ماضی کے دھندلکوں میں خاک چھانتے تصوّر۔

- ہر رات، دور بسے اپنوں پر تصوّر میں پڑھ پڑھ کے پھونک مارنا۔

- اور کبھی پردیس میں آدھی رات کو آنکھ کھلنے پر اپنے گھر پر ہونے کا تصوّر کہ تصوّر سرحدیں کب دیکھتا ہے !

- کسی فقیر کو دیکھ کے اسکی جگہ اپنے آپ کو تصوّر کرنے کا تصوّر۔

- نصرت فتح علی خاں صاحب کو سنتے سنتے شاعر کے کرب کا تصوّر۔

اور ان سب کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ۔ ۔ ۔میں اپنی تصوّراتی دنیا کے بارے میں زیادہ لکھ یا کہہ نہیں سکتا ۔۔۔۔۔بس تصوّر کرسکتا ہوں۔ کتنا وقت بیت گیا پر میرے لئے کچھ بھی نہیں بدلا حقیقی دنیا بازیچہ اطفال کی مانند لگتی ہے
کیونکہ۔ ۔ ۔
مجھے یاد ہے کہ حقیقی زمان و مکان کے دقیق مسائل تب سے حل ہونے لگے جب پہلی بار سکول میں امیر خسرو صاحب کی یہ نعت سنی۔ ۔ ۔

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم
( مجھے معلوم نہیں وہ کیسی جگہ تھی جہاں میں کل رات تھا۔ ۔ ۔پر طرف رقص بسمل ہو رہا تھا جہاں میں کل رات تھا)

لڑکپن میں امیر خسرو کی تصوّراتی دنیا کچھ خاص سمجھ تو نا آئی پر آہستہ آہستہ میری تصوّراتی دنیا خاص ہوتی گئی، کبھی آنکھیں موندے اور کبھی آنکھیں نم کئے۔ ۔ ۔
تصوّر ۔ ۔ ۔
ہائے وہ تصوّراتی دنیا۔ ۔ ۔
آہ ! وہ عشق ۔ ۔ ۔
ہائے وہ بے انت تصوّر۔ ۔ ۔
وہ خاص تصوّراتی دنیا ۔ ۔ ۔
وہ اوقات سے بڑھ کر تصوّراتی دنیا۔ ۔ ۔ ہائے ! ! !
جس میں ڈوب کر بے خودی طاری ہو جائے اور روح اور جسم کا ایسا رشتہ بنے جو حقیقی دنیا سے دور لے جائے اور مجھ جیسے قریب المرگ کو زندہ کر دے ۔ اب میری تصوّراتی دنیا کا یہ عالم ہے کہ ۔ ۔ ۔

خیالِ یار ﷺ وچ میں مست رہنا ہاں دنِ راتی۔
میرے دل وچ سجن وسدا میرے دیدے ٹھرے رہندے !

(اشکبار : جنید)
#میری_تصوراتی_دنیا

شہر شیدائی -  مسافرِ عشق کی مناجات آخر کار سال کے آغاز پر طویل انتظار اختتام پذیر ہوا اور ہم ساری دنیا کو جیت کر اپنے  "شہر" سے ...