شہر شیدائی
- مسافرِ عشق کی مناجات
آخر کار سال کے آغاز پر طویل انتظار اختتام پذیر ہوا اور ہم ساری دنیا کو جیت کر اپنے "شہر" سے ہارنے آئے کیونکہ میرے عشق کا پہلا حرف "ع" نہیں "ش" ہے ۔ ۔ ۔ "ش" سے "شہر" ایسا "ش" جو شروع سے ہی میری زندگی میں شامل ہے۔ جیسے "س" کبھی" ش" نہیں بن سکتا اسی طرح میرے لئے کوئی اور شہر فیصل آباد جیسا نہیں بن سکتا کیونکہ دنیا ، دنیا شہر بہ شہر گھومنے کے باوجود ایسا لگتا ہے کے میری "دنیا" اس "شہر" میں ہے۔
عشق آسان نہیں پر "ش" والا عشق تو ہوتا ہی شدید ہے جیسے من تو شُدم۔
پر آج کے سوشل ڈسٹنسنگ کرتے لوگ "شہر ڈسٹنس" کو کیسے ماپ سکتے ہیں وہ کیسے جان سکتے ہیں کے ان پہاڑوں کے پار شمال میں ایک شہر ہے جہاں سے میری زندگی کی شروعات ہوئی تھی ، پر شومئی قسمت تو دیکھئے عُموم بیٹیاں پرائے شہر جاتی ہیں پر یہاں رخصتی ہم بیٹوں کی ہوئی جو روزی کی شطرنج میں شہر بدر ہوئے ۔ ویسے تو ہم "شش" بہن بھائی ہی اس شہر کے شیدائی ہیں پر میں شاید "شُدھ" ہوں ایک ایسے درد کا شکار جسے "شہر سینڈروم " کہا جا سکتا ہے۔۔۔آخر اس درد کی دوا کیا ہے ؟
دلِ ناداں کو "شہر شفاء" جانا ہے کیونکہ سفنے وچ مینو شہر جے دسے ۔ ۔ تے میں رو رو اکھ سوجا لاں !
ویسے یہ رونا۔۔اشک بہانا کوئی شکوہ یا شکایت نہیں بلکہ "شکر" ہے کے میری زندگی شمسی توانائی سے نہیں بلکہ شہری توانائی سے چل رہی ہے گو کچھ شمسی ساعتوں سے شہر تو نہیں جا سکا تھا پر اپنی امی کا ماں جایا شہر شب و روز دل میں رہا۔
دولت شہرت شرط نہیں پر میرے بینک بیلنس میں بس اس شہر کی پہچان ہی ہے اسی لئے وقت بدلتا گیا پر "ش" کی شہ سرخی کم نا ہو سکی۔۔۔۔شریر سا میں شرمیلا بنا، پھر شیر جوان ہوا پھر "شہرزاد" سے "شادی شدہ" جس نے اپنی شاندار شریک حیات کو بھی شامل شہر کیا اوراس شہر کی یادوں کو شئیر کیا پھر اپنی ننھی شہزادی کو توتلی زبان میں فیصل آباد کہنا سکھلایا اور اب شاید دنیا کا پہلا شہری بنا جو "ش" کے علاوہ ہر شہر مں اکتایا رہتا ہے اس لئے لا علاج "شہر سینڈروم" کا شکار ہے۔ اک "ش" نے اک شخص کو کیا سے کیا بنا دیا۔
شاید آپ کواس بات پہ شک ہوگا یا کوئی شائبہ پر شہادت لے لیں یہ شئبدہ گری نہیں۔ بس ایک بار ملنا شرط ہے اس بیمار سے کیونکہ شنیدہ کیَ بود مانند دیدہ !
آہ ۔ ۔ ۔ اس "ش' نے مجھے
رانجھے کا رنج۔ ۔ ۔
ماہیوال کا وبال۔ ۔ ۔
پنوں مانند کھونا۔ ۔ ۔
رومیو کا رونا۔ ۔ ۔
مجنوں سا جنون۔ ۔ ۔
شاہ جہاں کا جہان۔ ۔ ۔
مرزا کا مرنا۔ ۔ ۔
اور
ہیپی پرنس کی اداسی سے لے کر
بلھے شاہ کی آہ۔ ۔ ۔ تک ہر شے سے شناسا کروا دیا ہے۔
ویسے تو شریعت کسی اور شہریت سے نہیں روکتی پر دل چاہتا ہے کے جب جب اس شہر کی "شہر شماری" ہو اس میں میرا "شوق دید" بھی شامل ہوں۔
شب برات ہو شب وصال ہو شب تنہائی ہو یا شاخِ گُل۔ ۔ ۔سب کچھ اپنے شہر میں ہی اچھا لگتا ہے کیونکہ اس شہر کی دھوپ پردیس کی چھاوں سے ٹھنڈی ہے۔ اس شہر کی چپ۔۔۔۔دنیا کے شور پہ بھاری ہے کیونکہ یہاں لوگوں میں ہوں پر ۔ ۔ ۔ تنہا ہوں لیکن اس شہر خیال و خواب میں آتے ہی
ہوا میں ابو کی شاباش سنائی دیتی ہے۔ ۔ ۔
آنگن میں شباب کی دوستیاں دکھائی دیتی ہے۔ ۔ ۔
سکول کی شوخی۔۔۔کالج کی شعلہ بیانی۔ ۔ ۔
شیشے میں "اصلی" شکل ۔ ۔ ۔
شہر کے یار۔ ۔ ۔اور ان کے ساتھ گزاری شاموں کی شان۔ ۔ ۔
وہ کاغذ کی کشتی ۔ ۔ ۔
وہ بارش کا پانی۔ ۔ ۔ غرض ہر شاعری میں شہر ہی سنائی دیتا ہے۔
سچ کہتے ہیں کے وطن جیا پردیس نی ہوندا تبھی "شہد" جسے شہر "فیصل آباد سے فاصلے" کا "فلسفہ" میری "شَناخْتی عَلامَت" بن گیا ہے کیونکہ میں "شہر شیدائی" ہوں
(ابو حیدر)

