Saturday, 8 February 2025

مٹیئےنی مٹیئے فیصل آباد دی اے !

جب سے فیصل آباد سے فاصلہ بڑھا ہے ،اکثر یہ سوچتا ہوں کیا کسی شہر سے پیار کرنا کسی شخص سے پیار کرنے جیسا ہی ہے ؟ ؟ ؟

درحقیقت فیصل آباد میں بسنے والے ہر شخص پر ہمیں رشک آتا ہے اور  ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کے ہماری "جنم بھومی" ہونے کے باوجود
فیصل آباد ہمارے حصے میں کیوں نا آسکا لیکن اس بات سے دل کو تسلی دے دیتے ہیں کے اکثر ہجرت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے !

پھر بھی اس ہجر میں۔ ۔ ۔ اس پردیس میں۔ ۔ ۔ مجھے  کہیں نہ کہیں فیصل آبادی  مل ہی جاتے ہیں، حال ہی میں اپنے شہر سے بہت دور "اتھرا / إثراء ;کنگ عبدالعزیز مرکز برائے عالمی ثقافت, ظہران - سعودی عرب"

میں ایک انوکھا شاہکار دیکھنے کو ملا " پانی پیاسے کو ڈھونڈتا ہے" "Water Seeks the Thirsty"

جو مس عائشہ خالد نے بنایا ہے جن کا تعلق  بھی فیصل آباد سے ہے.
شکریہ میڈم۔۔۔فیصل آباد کا نام روشن کرنے کے لیے۔۔۔اس مٹی کو فخر ہے آپ پر۔ جیتی رہیں !
مجھے بھی اپنے شہر کی پیاس ہے کیونکہ پردیس میں میرا دل اُداس ہے !
(ابو حیدر)

I am Thirsty for My City

A phrase "Is falling in love with a city any different from falling in love with a person ?" has changed my life beacuse my love for Faisalabad has always enabled me to meet and greet amazing persons a.k.a Faisalabadies around the globe .

Recently, far from Faisalabad at Ithra; King Abdulaziz Center for World Culture, Dhahran city-KSA, I came across the beautiful artwork "Water Seeks the Thirsty" by an amazing artist Ms Aisha Khalid who also hails from Faisalabad.

Although, only one Faisalabadi made this ART but she makes more than 3.8 Million citizens proud !

شہر شیدائی -  مسافرِ عشق کی مناجات آخر کار سال کے آغاز پر طویل انتظار اختتام پذیر ہوا اور ہم ساری دنیا کو جیت کر اپنے  "شہر" سے ...